1 اکتوبر 2011 - 20:30

اے پی سی میں نہ بلایاجاناافسوسناک ہے.

ابنا: کالعدم دہشت گرد ٹولے کے ترجمان نے حب الوطنی کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ٹولے کو اپنی حب الوطنی کیلئے کسی سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن سپاہ صحابہ کی طرح تحریک جعفریہ بھی ایک کالعدم جماعت ہے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کاامتیازی سلوک قابل قبول نہیں ان خیالات کااظہار نئے نام سے پرانے کالعدم ٹولے "اہلسنت والجماعت" کے مرکزی جنرل سیکرٹری خادم ڈھلوں نے ایک ہنگامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈھلوں نے دعوی کیا "سپاہ صحابہ پرپابندی سابق ڈکٹیٹر نے لگائی تھی جسے ہم نے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کررکھاہے اوریہ بات ریکارڈ پرموجودہے کہ اہلسنت والجماعت نے ملک میں قیام امن کیلئے جو جدوجہد حالیہ دورمیں کی ہے کوئی بھی ادارہ یاحکومت اس سے انکارنہیں کرسکتا"۔

ڈھلوں نے ملکی خدمت کا دعوی ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اگر چہ ملک میں خون خرابے کابازار کرنے کے سوا ملک کی خدمت کا ان کے پاس ثبوت ہو ہی کیا سکتا ہے۔

لیکن ملک میں یکجہتی کے فروغ ،استحکام اور نامساعدعالمی حالات پرحکومتی سطح پرمنعقدہونے والی اے پی سی میں ہماری جماعت کودیوارسے لگانے کی کوششیں بھی ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ، ہم اے پی سی کے انعقادسے قبل ہی اس کے فیصلوں کی بھرپورتائیدکرتے ہیں لیکن ہم عوام کوبتاناچاہتے ہیں کہ ایک کالعدم جماعت کے سربراہ ساجدنقوی کودعوت دیکراوردوسری کالعدم جماعت کے سربراہ علامہ احمدلدھیانوی کونہ بلاکروزیراعظم سیکرٹریٹ سے حالات کوجس رخ پردھکیلنے کااقدام کیاجارہاہے وہ نامناسب بھی ہے اورہمارے لئے ناقبل برداشت بھی۔

سپاہ صحابہ کے ترجمان خادم ڈھلوں کایہ بیان اتنامضحکہ خیزہے کہ جس کاجواب وزیر اعظم تو کیا  پاکستان کی معمولی معلومات رکھنے والاہربچہ بھی آسانی سے دے سکتا ہے کہ سپاہ صحابہ کی حقیت کیاہے اورکتنی محب وطن جماعت ہے اورآج مملکت خدادپاکستان میں ملک اسحاق کیاکر رہا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں سپاہ صحابہ کی ذیلی تنظیمیں کیا کررہی ہیں اور پاکستان کا پرچم اتارنے سے لے کر پاکستانی افواج پر مسلحانہ حملے کرنے والے سپاہ صحابہ کو رشتے میں کیا لگتے ہیں؟یاد رہے کہ علامہ ساجد نقوی کو تحریک جعفریہ کے سربراہ کے عنوان سے نہیں بلکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ٹائٹل پر دعوت دی گئی ہے۔ ...........

/169

- پنجاب حکومت نے ملک اسحاق کو عملی سیاست میں لانے کا فیصلہ